اتوار، 22 اگست، 2021

ٹیکس کا نظام ۔ ٹیکس دینے کے فائدے ۔ عوام حکومت کو کیوں ٹیکس ادا کریں

 کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ٹیکس کی کیا اہمیت ہے اور عوام کیوں ٹیکس دیں ۔ اس پر آج بات کروں گا اور بتاؤں گا کہ یورپی ملک ناروے جس کی آبادی کم و بیش 60 لاکھ ہے وہاں ٹیکس کا نظام کیا ہے اور عوام کو اس کے کیا کیا فائدے ہیں

 جب سے جہاں جہاں حکومتی نظام قائم ہوا تب سے اگر کسی ملک میں ٹیکس  لگایا گیا اور عوام نے حکومت کے ساتھ تعاون کیا   تو اس ملک نے ترقی کی اور ایک فلاحی معاشرہ بن گیا ۔ آج کے دور میں اگر اس کی مثال دیکھنی ہو تو وہ یورپی ممالک کو دیکھ لے۔ 

کسی بھی ملک کو چلانے کے لیے حکومت کو کثیر رقم کی ضرورت ہوتی ہے ۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے علاوہ حکومت کو اسپتال اسکول اپنے خرچے پہ چلانے ہوتے ہیں ۔ عوام کو سستی اشیاء مہیا کرنے کی خاطر بہت سی اشیاء پر سبسڈی دینی پڑتی ہے ۔ اس کے علاوہ ملک چلانے کے لیے لاکھوں خرچے کرنے پڑتے ہیں جن کی اگر یہاں لسٹ گنوانا شروع کروں تو پورا مضمون بھی ناکافی ہو گا ۔

                  ٹیکس کی افادیت کو سمجھنے کے لیے ناروے میں ٹیکس کے نظام اور اس کے عوامی اور ملکی فائدے کیا کیا ہیں ۔ انہی کو جان کر آپ حیران رہ جائیں گے کہ کیسے ایک ملک جس کی اپنی کسی بھی قسم کی نہ تو کوئی مصنوعات ہیں جن کی تجارت سے وہ آمدن حاصل کر سکیں یا ان کے عوام اپنے بل بوتے پر اپنی پیداوار سے کما سکیں ۔ ناروے وہ ملک ہے جہاں کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ ضروریات ذندگی کی ہر ہر چیز مختلف ممالک سے خرید کر فروخت کی جاتی ہیں ۔ ناروے کی آمدن کا بڑا ذیعہ ٹیکس ہی ہے۔ ناروے کے پاس تیل کا بھی بہت بڑا زخیرہ ہے لیکن تیل کی آمدن کا حکومت ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کرتی ۔ یاد رہے حکومت تیل کی آمدن کو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ اور سنبھال کر رکھ رہی ہے ۔ تاکہ ان کی آنے والی نسلین یہ سوال نہ کر سکیں کہ ہماری پرانی حکومتوں نے ہمارے لیے کیا کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ناورے کو ٹیکس کے پیسے سے چلایا جا رہا ہے ۔

ہمارے ملک میں عوام کا یہ سوال عام ہے کہ  حکومت ہمیں کیا دیتی ہے اور ہم ٹیکس کیون ادا کریں یا حکومتی لوگ ہمارے ٹیکس کا پیسہ ہڑپ کر جائیں گے ۔ ایک حد تک عوام کا یہ خدشہ جائز بھی ہے لیکن جب تک ہم ٹیکس دیں گے ہی نہیں حکومت ہمیں کہاں سے کھلائے گی ۔ حکومت جتنا ٹیکس اکھٹا کرتی ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے اگر ٹیکس سے قومی خزانہ بھر جائے تو کون کتنا کھا سکتا ہے ۔ آج کے دور میں حکومتی ٹیکس میں فراد چھپا نہیں رہ سکتا ۔


آئیے دیکھتے ہیں کی نارویجن عوام حکومت کو کیا کیا ٹیکس دیتے ہیں اور حکومت عوام کو اس کا کیا مفاد مہیا کرتی ہے

ناروے میں ہر شخص جس کی آمدن ڈھائی لاکھ سالانہ سے کم ہے اپنی آمدن کا 30 فٰسد ٹیکس ادا کرتا ہے یعنی 100 کراؤن پر 30 کراؤن ۔

ساڑھے چار لاکھ سے اوپر آمدن والا عام آدمی اپنی آمدن کا پچاس ٖفیصد ٹیکس ادا کرتا ہے

   کھانے پینے کی اشیاء پر 15 فیصد سیلز ٹیکس

باقی گھریلو ضروریات زندگی مثلا ٹی وی فرج کپڑے اور عماراتی سامان پر 25 ٖفیصد سیلز ٹیکس

جائیداد کی خرید و فروخت پر 28 فیصد ٹیکس

کاروبار پر سالانہ منافع پر 28 فیصد ٹیکس

ناروے میں ہوام کو ٹیکس کے حکومت کی طرف سے فائدے

کام چھوٹ جانے پر ایک سال یا اس سے زیادہ عرصہ تک فل ماہانہ تنخواہ جو اس کو کام کی وجہ سے ملتی تھی

بیماری کی صورت میں فل تنخواہ

کام کرنے والی خواتین کو بچے کی پیدائش پر گھر بیٹھے ایک سال پوری تنخواہ

کام نہ کرنے والی خواتین کو بچے کی پیدائش پر ایک سال تک الاؤنس

بچوں کو 18 سال تک ماہانہ وظیفہ 

مفت تعلیم اور کتابیں

کسی بھی بیماری کی صورت میں اسپتال میں داخلہ اور آپریشن مفت

معذور بچوں کی پرورش پر ماہانہ وظیفہ اور گاڑی

اولڈ ہوم میں بزرگ حضرات کی رہائش اور کھانا مفت

ڈاکٹر اور ادویات کا خرچہ سال میں 2600 کراؤں ہو جائے تو ڈاکٹر کی فیس ادا نہیں کرنی اور ادویات مفت

بیراز گاروں کو بیروز گاری الاؤنس

اس کے علاوہ ایک لمبی فہرست ہے

 یاد رہے کہ ناروے اس وقت دنیا کا امیر ترین ملک ہے اور عوامی سہولیات کے لحاظ سے دنیا میں نمبر ایک ہے 



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ٹیکس کا نظام ۔ ٹیکس دینے کے فائدے ۔ عوام حکومت کو کیوں ٹیکس ادا کریں

  کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ٹیکس کی کیا اہمیت ہے اور عوام کیوں ٹیکس دیں ۔ اس پر آج بات کروں گا اور بتاؤں گا کہ یورپی ملک ناروے جس کی آبادی ...